Section A
Q1. مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح مع ساق د سباق کیجیے اور ان کے لسانی محاس اور ادنی خصوصیات کا بھی جائزہ کیجیے۔ ہر اقتباس کی تشریح تقریباً ایک سو پچاس (150) لفظوں پر مشتمل ہو :
(a) باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارضی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈیڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا ، کش پر بھی وہ رو نہیں رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلّہ والے س سے رہ گئے۔ پھر ہندو رواج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلتی ہوئی کھوپڑی میں کپال کریا کی لائھی مارٹی پڑی ... ۔عورتیں باہر سے شمشان کے کنویں پر سے نہا کر لوٹ چکی تھیں۔ جب مدن گھر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا۔ دھرتی ماں نے تھوڑی دیر کے لیے جو طاقت اپنے بیٹے کو دی تھی ، رات میں گھر آنے پر پھر سے ہول میں ڈھل گئی ... ۔ اسے کوئی سہارا حاییے تھا ، کسی ایسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھی بڑا ہو۔ اس وقت دھرتی ماں کی بیٹی جنگ دلاری اندو نے کسی گھڑے میں سے پیدا ہو کر اس رام کو اپنی بانہوں میں لے لیا ... ۔ اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبا۔
(b) پھر جب سخت گھراتا ہوں اور تنگ آتا ہوں تو یہ مصرعہ پڑھ کے جیپ ہو جاتا ہوں : ’’ اے مرگ نا گہاں! مجھے کیا انتظار ہے‘‘ ہے کوئی نہ مسجھے کہ میں اپنی بے روفقی اور تپاہی کے غم میں مرتا ہوں۔ جو دکھ مجھ کو ہے اس کا بیان تو معلوم! مگر اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں : انگریز کی قوم میں سے جو انِ رو بیاہ کالوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے اُن میں کوئی M-EL-D-URD 147 2