Q1. مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح ساتی و ساتی کے حوالے سے ادنی و فنی محاس کی نشاندہی کے ساتھ کیجئے۔ ہر اقتباس کی تشریح ایک سو پچاس (150) الفاظ پر مشتمل ہو۔
(a) ’’ اب جو دیکھئے ، سوانے ایک مٹی کے ڈھیر کے ان کا کچھ نشان باقی نہیں رہا اور سب دولتِ دنیا ، گھر بار ، آل اولاد ، آشا دوست ، نوکر جاکر ، ہاتھی گھوڑے چھوڑ کر اگیلے پڑے ہیں۔ یہ سب ان کے کچھ کام نہ آیا بلکہ اب کوئی نام بھی نہیں جانتا کہ بہ کون تھے اور قبر کے اندر کا احوال معلوم نہیں کہ کیڑے مکوڑے ، چیونٹے ، سانپ ان کو کھا گئے یا ان پر کیا بیپؓ اور خدا سے کیسی بنی۔ یہ باتیں اپنے دل میں سوچ کر ، ساری دنیا کو پیکھنے کا کھیل جانے ، تب اس کے دل کا غنچہ ہمیشہ گلفتہ رہے گا۔’’ کسو حالت میں پڑمردہ نہ ہوگا۔
(b) ’’ صاحب تم جانتے ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا واقع ہوا۔ وہ ایک زمانہ تھا کہ جس میں ہم تم ہاہم دوست تھے اور طرح طرح کے ہم میں تم میں معاملات مہر و محبت در پیش آئے۔ شعر کیے ، دیوان جمع کئے۔ اسی زمانے میں ایک اور بزرگ تھے کہ وہ ہمارے تمہارے دوست تھے اور منشی نبی بکش ان کا نام اور حقیر تخلص تھا ، ناگاہ نہ وہ زمانه رما ، نه وه اشخاص ، نه وه معاملات نه وه اختلاط نه وه انبساطه بی ن
(c) ’’ علوم و فنون نے بہت سے دھکے کھا کر معلوم کیا کہ اب اس جہاں میں رہنا عزت نہیں بلکہ بے عزتی ہے۔ ملکہ کے محل سے نکلے ، تمام دنیا میں پھرے ، تکلیف و مصیبت کے سوا کچھ نہ پایا۔ اتفاقاً ایک سبزہ زار میں گزر ہوا۔