Section A
Q1. مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح مع سیاق و سباق کیجئے اور ان کے ادبی و فنی محاسن کا بھی جائزہ لیجئے۔ ہر اقتباس کی تشریح تقریباً 150 الفاظ پر مشتمل ہو۔
(a) ’’ جو کچھ تم نے لکھا، یہ بے دردی ہے اور بد گمانی۔محاذ اللہ، تم سے اور آزردگی۔مجھو اس پر ناز ہے کہ میں ہندوستان میں ایک دوست صادق الورار رکھتا ہوں۔جس کا ہر گو پال نام اور تفتیہ پخلص ہے۔ تن ایک کو نسی بات لکھوگے کہ موجب ملال ہو؟ رہا غم ساز کا کہنا،اس کا حال ہیہ ہے کہ میر احقیقی بھائی کل ایک تھاکہ وہ تیس برس دیوانہ رہ کر مر گیا۔مثلاً وہ جیپار چتااور ہوشیار ہوتااور تمہاری برائی کہتا تو میں اسکو حجیز ک دیتااور اس سے آزردہ ہوتا۔بھائی! مجھ میں کچھ اب ہاتی نہیں ہے۔ برسات کی مصیبت گذر گئی کیکن بڑھاپے کی شدت بڑھ گئی۔تمام دن يڑار ہتاہوں، پبٹھ نہيں سکتا۔اکثر لیٹے لیٹے لکھتاہوں۔‘‘
(b) ’’ جیل کاسپر نٹنڈنٹ آ ٹر کارایک بادر چی کوڈھونڈ لایا گر جب پیۃ چلاکہ اب باہر جاناممکن نہیں تو یہ حال ہوا کہ وہ کھانا کیا پکاتا ہے ہوش وحواس کا مسالہ کوٹنے لگااور قید خانے میں جو، اسے ایک رات دن قید وبند کے توے پر سپنگا گیا تو بھونے تلنے کی ساری تر کیبیں بھول گیا۔اس احمق کو کیا معلوم تھاکہ ساٹھ روپے کے عشق میں ہے پاپڑ بیلنے یڑیں گے۔اس ابتدائےعشق نے ہی کچوم نکال دیاتھا۔ قلعے تک پہنچتے تک پیچتے قلبہ بھی تیار ہو گیا۔‘‘
(c) پھر جب سخت گھبراتا ہوں اور ننگ آتا ہوں تو یہ مصرعہ پڑھ کے چپ ہو جاتا ہوں : ” اے مرگ ناگہاں! تھے کیلانظارہے۔“ بیہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بےرو نقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔جود کھ مجھکوہاں کا بیان تومعلوم! مگر اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔انگریز کی قوم میں سے جوان روساہ کالوں کے ہاتھ سے قتل ہوئےاُن میں کوئی میر لامید گاہ تھااور کوئی میر اشفیق اور کوئی میر ادوست، کچھ شا گرد ،کچھ معشوق، سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ایک عزیز کاماتم کتناسخت ہوتاہے۔جواننے عزیزوں کاماتم دار ہواسکو زیست کیوں کرنہ دشوار ہو، ہائے اتنے بار مرے کہ جواَب میں مر وں گاتومیر اکوئی رونے والا بھی نہ ہو گا۔انا لله وانا الیه راجعو