Section A
Q1. سندرجہ ذیل اقتناسات کی تشریح مع سیاق دسباق کیجیے۔اوران کے ادبی ڈیٹی محاسن کا بھی جائز ہ کیجے،میرا قتناس كى تشريح تقريباً ايك مو پجاس (150) الفاظ پر مشتل ہو۔
(a) ’’یہاں کا حال کیالکھوں، بقول سعدی علیہ الرحمہ( ینہ ماندآب جز چشم دریتیم ) شب وروز آگ بریق ہے۔ نہ دن کوسورج نظر آتا ہے، نہ رات کو تارے۔زمین ہے اٹھتے ہیں شنلے،آسان سے گرتے میں شرارے، چاہا تھا کہ کچھ گرمی کا حال لکھوں یعقل نے کہا دیکھ نادان قلم انگریز کی ویا سلائی کی طرح جل اٹھے گی،اور کاغذ کوحلادے گی۔بھائی ہوا کی گرمی تو بڑی بلاہے گاہ گاہ جوہوا بتد ہوجاتی ہے وہ اوربھی جاں گزا -
(b) میں اس کی دیکھا کہ گوہر کتنی ڈھٹائی ہے بول ریا ہے۔ادب کاظ جیسے بالکل بھول کے کیا ہو۔ابھی شاپڑ پیں جانتا کہ باپ میری مجوری کررہاہے۔ گاہے تھوٹی ندی کوامنڈتے دیر جیس لگتی۔مگر چہرے پر کدورت بنا قے دی۔ جیسے بڑے بوڑھے پچّوں سے موجھییں اکھڑ واکر بھی ہنتے ہیں،انھوں نے بھی اس طعنے کو فہسی میں ایااور ہفتے ہوئے کہا: لکھنؤکی ہوا کھاکےتو بڑا چنٹ ہو گیاہے گو پر۔