Section A
Q1. مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح مع ساق وساق کے حوالے اور ادلی وفنی محاسن کی نشاندہی کے ساتھ کیجیے۔ ہر اقتباس کی تشریح تقریباً يك سو پياس (150) الفاظ پر مشتمل ہو۔
(a) ’’اے بیرن! تو میر ی آنکھوں کی پُتلی اور ماں باپ کی موٹی مٹی کی نشانی ہے۔ تیرے آنے سے میر اکلیجا ٹھنڈا ہوا۔جب تھے دیکھتی ہوں باغ باغ ہوتی ہوں۔تونے مجھے نہال کیا۔لیکن مر دوں کو خدانے کمانے کے لیے بنایا ہے،گھر میں بیٹھے رہناان کو لازم نہیں۔جو مر د گھٹو ہو کرگھر سیتاہے،اس کو دنیا کے لوگ طعنہ مہنادیتے ہیں۔خصوصاًا س شہر کے آدمی چھوٹے بڑے بے سبب تمہارے رہنے پر کہیں گے:اپنے باپ کی دولتِ د نیاکھو کھاکر بہنوئی کے ٹکڑ وں پر آیڑا۔‘‘
(b) ’’ ہندوستان کے اوپنشدوں نے ذات مطلق کو ذات متصف میں اتراتے ہوئے جن تنزلات کا نقشہ سھینچاہے،مسلمان صوفیوں نےاس کی تعبیر ’’احدیت‘‘اور’’واحدیت‘‘ کے مراتب میں دیکھی۔احدیت کامر تبہ یکیائی محض کاہوالیکن داحدیت کی حکھہ اوّل کی ہو ئی اور اوّلیت کامر تبہ جاہتاہے کہ دوسرا، تیسرا، چوتھا بھی ہو’’تحنُثُ كَنُزاً معضياً فاجيتُ أنْأُعرَفَ فَخَلَقْتُ العق ‘‘،اگرچہ حدیث قد ی نہیں ہے، مگر جس کا بھی قول ہے اس میں شک نہیں کہ ایک بڑے ہی گہرے تفکر کی خبر دیتاہے۔‘‘
(c) اس میں شک نہیں کہ امید دھوکے بہت دیتی ہے اور ان باتوں کی توقع پیدا کرتی ہے جوانسان کو حاصل نہیں ہوسکتیں۔ گر وہ دھوکے اصلی نعمتوں سے سوامز ہ دیتے ہیں اور موہوم وعدے قسمت کی لکھی ہوئی دولتوں سے گراں بہااور خوش نمامعلوم ہوتے ہیں۔اگر کسی معاملہ میں ناکام بھی کرتی ہے تواُسے ناکامی نہیں کہتی، بلکہ قسمت کی دیر کہہ کرایک اس سے بھی اعلاقیتین سامنے حاضر کر دیتی ہے۔
(d) لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں کے لیے کام میں لائیں،لیکن نہیں جانتے کہ یہاں ایک سب سے بڑاکام خود زندگی ہوئی، یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا۔ یہاں اس سے زیاد ہ سہل کوئی کام نہ ہوا کہ مر جاپئے،اوراس سے زیادہ مشکل کوئی کام نہ ہوا کہ زندہ رہے۔جس نے بیہ مشکل حل کر لی،اُس نے زندگی کاسب سے بڑاکام انجام دے دیا۔